top of page
Screen Shot 2021-04-15 at 7.48.31 PM.png

اِتّحاد

مُسلمانوں کے اتحاد کا نظریہ

جناح کے نظریات

انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم قوم کے اتحاد کا مجسم ہے اور اس لیے اسے باقی رہنا چاہیے۔ اس اتحاد کو ، بطور سچے مسلمان ، ہمیں حسد کی حفاظت اور حفاظت کرنی چاہیے۔ اگر ہم اپنے آپ کو بنگالی ، پنجابی ، سندھی وغیرہ سمجھنا شروع کریں اور پہلے مسلمان اور پاکستانی صرف اتفاقی طور پر ، کہ پاکستان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ یہ مت سوچیں کہ یہ کوئی بھونڈی تجویز ہے: ہمارے دشمن اس کے امکانات کے لیے پوری طرح زندہ ہیں جن کے بارے میں مجھے خبردار کرنا چاہیے کہ وہ پہلے ہی استحصال میں مصروف ہیں۔

--مسٹر جناح / قائداعظم -

-  تقریر: مشرقی پاکستان کے لیے الوداعی پیغام۔

- سیاق و سباق: ریڈیو پاکستان ، ڈھاکہ سے تقریری نشریات

how-did-quaid-e-azam-offer-first-eid-pra

گہرے تاثّرات

پاکستانی اپنی ریاست کی تعمیر کے لئے مکمل توانائی اور اپنی تمام تر قوت کے ساتھ کوشاں ہیں۔ قومی استحکام کے لیے مسلمانوں کی مکمل یکجہتی لازمی ہے۔ پنجابی ہو یا سندھی ، پٹھان ہو یا بنگالی،   چترالی ہو یا بلوچ ،  شیعہ ہو یا سنی (یا کوئی بھی قومیت یا فرقہ)، سب اس بات پر متفق ہیں کہ ’’ہم مسلمان ایک خدا، ایک کتاب، قرآن پاک اور ایک نبی پر ایمان رکھتے ہیں۔ اس لیے ہمیں ایک قوم کے طور پر متحد رہنا چاہیے۔

آپ پرانی کہاوت جانتے ہیں کہ اتحاد میں طاقت ہے۔ متحد ہوں گے تو قائم رہیں گے، تقسیم ہوں گے تو شکست خوردہ ہوں گے۔"                            محمد علی  جناح

اتحاد کا مقصد ،پاکستانیوں سے اپنی قومی زندگی کے اگلے مرحلے کی، کُل سازی کرنے کا تقاضا کرتا ہے، جو مذہب کو ایک فلسفیانہ اور تاریخی تصور کے طور پر دیکھتا ہے، نہ کہ حکمت عملی کے عملی اصولوں کے طور پر۔ نظریاتی اختلافات اور حساس مذہبی عقائد کو ریاستی حکمت عملی سے نہیں جوڑا جا سکتا۔

ہماری عظیم معجزاتی کتاب سے اصول، بصیرت اور مفہوم کا اخراج عقلی درستگی کے ساتھ کیا جانا چاہیے، لیکن پاکستانی مسلم صحیفے کو ذاتی، سیاسی اور بین الاقوامی زندگی کے مرکزی ثالث کے طور پر نافذ نہیں کریں گے۔ یہ خود صحیفے کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ ہے کہ صحیفے کے معنی کو سمجھانے کے ذمہ داروں نے گمبھیر غلطیاں سر  انجام دیں ہیں۔ نامعقول مشاہدے کے باعث ہم نے ٹی ایل پی (تحریک لبیک پاکستان) کی جانب سے غیر اخلاقی  اور نقصان دہ حکمتِ عملیاں دیکھی ہیں۔ جہاں اسی جہالت کا شکار دو پولیس والے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ چھ سوسے زائد زخمی بھی ہوئے، اور امن و امان بھی متاثر ہوا۔ یہاں تک کہ ناموسِ رسالت کے قانون پر فرانسیسی سفارتکار کو مُلک بدر کرنے کی جاہِلانہ مانگیں بھی سامنے آئیں۔

پاکستان کے شہری ان خبطی مذہبی جنونیوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہمیں ان کے خلاف ایک انتہائی مضبوط مثال قائم کرنی چاہیے اور انتہاپسندمولویوں کے اس طبقے کو پاکستان کی بین الاقوامی سفارت کاری میں مداخلت سے قطعی طور پر روکنا چاہیے۔

کسی فرد کو  اُس کا اثر و رسوخ   کم استعمال کرنے کے لئے اس کا کوئی بھی دائرہ اختیار محدود کرنا بالکل نا ممکن عمل ہے۔ ایک فرد کو کسی معاملے میں اثرورسوخ تک رسائی دیں، خصوصاً اگر وہ مذہبی عقیدے اور رسم و رواج سے جُڑا کوئی امر ہو تو آپ یقیناً ایک ہی یکساں منزل کی جانب دیگر مقاصد کی ایک  کثیر تعداد کو شامل کریں گے۔ یہ کم ازکم مخصوص موجودہ حالات و واقعات سے نمٹنے کے عملی طریقوں میں میں تعصب کا مُظاہرہ نہیں کرتا ہے، جیسے کہ مُسلم افراد کو ایک اسلامی یونیورسٹی کے استحقاق یا انصاف کی اجازت دینا۔ یہ محض ایک دلیل ہے جو معاشرے کی دو عظیم ذاتوں میں تقسیم کرنے کے ایک مکمل اور حتمی فارمولے کے خِلاف ہے، جس میں ایک رُوحانی دِین کے ساتھ ہے اور دُوسری قلمی عقیدے کے ساتھ۔

 

ہمیں پھر سے یادہانی کرنی ہوگی کہ "اسلام اور اس کے تصوراتی نطریے نے ہمیں جمہوریت سکھائی ہے۔ اس نے انسانوں کی برابری، انصاف اور سب سے منصفانہ عمل اختیار کرنے کی ترغیب دی ہے ۔ ہم ان شاندار روایات کے ورثاء ہیں اور پاکستان کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں سے پوری طرح باخبر ہیں۔ کسی بھی صورت میں، پاکستان ایک مذہبی انتہاپسند ریاست نہیں بننے والا ہے، جس پر مذہبی پیشوا ، روحانی   بُنیادوں

پر حکومت کریں"۔ محمد علی  جناح

محمد علی جناح کے درج ذیل الفاظ ہمیشہ سے ہماری خارجہ پالیسی کے نظریے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے آئے ہیں، "ہمارا مقصد داخلی اور خارجی امن  ہونا چاہئے ۔ ہم امن کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں اور اپنے قریبی پڑوسیوں اور پوری دنیا کے ساتھ خوشگوار اور دوستانہ تعلقات برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔" اپنے داخلی امن کے حصول کے لیے پاکستانی عوام سے یہ درکار ہے کہ وہ مذہبی جنونیت کے اثر و رسوخ کو احترام کے ساتھ ختم اور  اس کی حوصلہ  شکنی کرکے اپنا قومی فرض ادا کریں۔

ریاست پر مبنی بین الاقوامی قوانین مسابقتی نظریوں میں توازن برقرار رکھنے  کے لئے ایک نظام کی طرف اِشارہ کرتے ہیں جہاں مضبوط  باہمی تعاون  سے ایک دوسرے کے احساسات کو ہمدردانہ سمجھ بوجھ سے فروغ  دی جاسکے۔ آزادیِ رائے کی وسعت  اور نتیجتہً اس کے عدم برداشت  کی مثال مسلم دُنیا میں ایک فساد بن کر پھوٹ پڑی۔  ایسے افسوسناک واقعات روُنما ہوئے جن کی وجہ سے پاکستان میں فرانسیسی زندگیاں خطرے میں آگئیں، اور پاکستانی زندگیاں فرانس میں۔

مسلمان اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ  تاریخ میں اب تک کوئی ایسی دوسری ناقابلِ شکست سیاسی قوت نہیں اُبھری، جو ہمارے نبی محمد ﷺ نے کر دِکھائی۔ اِسی کے ساتھ ساتھ، ہم اس بات کو بھی مانتے ہیں  کہ تمام دُنیا میں کسی بھی معاشرے میں اپنا حکم و فرامان   برداشت و ضبط کے ساتھ قائم کروانا کسی بھی دوسری طاقت، قیادت، سیاست، شخصیت، یا نظریہ،  کے لئے ممکن نہیں۔  خلافت اور سلطنت جیسے تاریخی آثار کو عظیم  مصطفیٰ  کمال اتاترک اور محمد علی جناح جیسے قائدین نے  قومی ریاستوں کے قیام سے ختم کر دیا۔ ہم اب فرسُودہ تصورات اور وہموں پر وقت ضائع نہیں کر سکتے۔ اب ہمیں قومی اتحاد، قومی تشخص، اور قومی مفاد کے حوالے سے مسلمانوں کے شعور کو ازسر نو تشکیل دینے پر اپنی نگاہیں مرکوز کرنی چاہئیں۔

اب  عالم ِ اسلام کے پاس سائنس، ادب، زبان، فن، ریاضی، کاروبار، فیشن، تجارت، اور انسانی ذہانت کی مختلف شکلوں اور اظہار کے ذریعے اپنی نشاۃ ثانیہ کو تحریر اور تشکیل دینےکا وقت اور نیا دور ہے۔ اب وہ وقت آچُکا ہے کہ ہم اپنے عظیم مقاصد کو قلیل سے قلیل وقت میں مکمل کریں۔ ہمیں اپنے ماضی کے کارناموں کو کامِل سمجھ کر رُکنا نہیں ہے، کیونکہ  ہمیں اس سے کہیں زیادہ  عظیم اور بڑے کارنامے انجام دینے کے لئے پُر عزم رہنا ہوگا۔ ہمیں اپنے ملک کو دنیا کی خوشحال اور مہذب قوموں کی سطح پر بلند کرنا ہوگا۔  اسی طرح ہم اپنی قوم کو فلاح و بہبود کے وسیع  ترذرائع سے نوازیں گے۔ ہمیں اپنی قومی ثقافت کو تہذیب کی عصری سطح سے  بھی اوپر لے جانے کی جستجورکھنی چاہئے۔ ہمیں وقت کی پیمائش کو پچھلی صدیوں کی ذہنیت سے نہیں بلکہ اپنی صدی کی رفتار اور حرکات کے تصورات سے پرکھنا ہوگا۔ ماضی کے مقابلے میں ہمیں مزید محنت اور جدو جہد کرنی ہوگی ۔ہمیں اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم اپنی نیک و عالیٰ نسب کاوشوں میں کامیاب ہوں گے ، کیونکہ

پاکستانی قوم ایک معیاری اور مضبوط عنصر سے بنی اور بہترین کردار کی حامل ہے

*** اپ ڈیٹ 04/17/21:  

1. پی ٹی آئی حکومت نے گزشتہ 4 دنوں کے دوران 3 ہزار سے زائد ٹی ایل پی کارکنوں کو گرفتار کیا۔ 

2. انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی پاکستان کے انسداد دہشت گردی قانون کے تحت کی گئی۔ 

3۔ پاکستان کی مقننہ میں دہشت گردی کے جرائم جیسی سرگرمیوں کو چارج کرنے کے لیے موثر قوانین موجود ہیں۔

اب یہ پڑھیں

یکساں مضامین جو شاید آپ کو پسند آئیں

build.JPG

نوجوان مستقبل ہیں۔ مسٹر جناح بتاتے ہیں کہ کس طرح نوجوانوں کو اپنے آپ کو نظم و ضبط ، تعلیم اور تربیت سے مکمل طور پر آراستہ کرنا چاہیے۔

bottom of page