top of page
free choice.JPG

آزاد انتخاب کے ذریعے

جناح کے نظریات

اور پھر ہماری قومی کاوِشوں کا ثمر 1947 کے انڈین آزادی ایکٹ کی صورت میں سامنے آیا، جس کے تحت برطانوی حکومت نے اس برصغیر کے لوگوں کی بالادستی کو تسلیم کیا اور انہیں مکمل اختیارات منتقل کرنے کا پابند بنایا۔ اس ایکٹ کی منظوری کے بعد برطانوی حکومت اور ریاستوں اور قبائل کے درمیان جو سمجھوتے اور معاہدے ہوئے تھے وہ سب ختم ہو گئے۔ برطانوی حکومت کی ذمہ داریاں اور قبائلی علاقوں کے حوالے سے قابل عمل تمام اختیارات، حقوق،  اورقانونیت بھی ختم ہو گئے۔ دوسرے لفظوں میں، قبائلی لوگ برطانوی حکومت کے جانشین مقتدر کے طور پر پاکستان کے ساتھ ایسے انتظامات کرنے کے لیے آزاد تھے، جن پر اتفاقِ رائے ممکن ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ، چیف کمشنر  کےبرطانوی بلوچستان صوبے کو انڈین آزادی ایکٹ کے تحت پاکستان کے علاقوں کا حصہ بنا دیا گیا، اور صوبہ بلوچستان نے اس حیثیت میں رہ کر پاکستان کو قبول کرتے ہوئے اپنے منتخب نمائندوں کو پاکستان کے آئینی ایوان (اسمبلی) میں بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ یہ اُس وقت آزادی و خودمختاری کے اختیار کا حصول رکھتے تھے،  جب قبائلی علاقوں کے لوگوں نے اپنی آزادانہ مرضی اور رائے سے، گزشتہ سال کے موسم گرما میں اپنےصوبے میں ہونے والے ریفرنڈم کے ذریعے، پاکستان کی آئین ساز اسمبلی میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ۔ اور جوں ہی ایسا ہوا، میں نے بطور گورنر جنرل پاکستان، حکومت پاکستان کی جانب سے بلوچستان کے عوام کو یقین دلانا اپنا فرض سمجھا کہ تمام معاہدے اور وظائف اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک ان  کی مرضی اور مشاورت سے ان میں ترمیم نہیں کی جاتی۔

-مسٹر جناح / قائداعظم

- تقریر:  بلوچستان میں ترقی کا نیا دور

- خیال، سیاق:  سبی دربار میں خطاب۔ 

jinnah6.PNG

گہرے تاثّرات

ہرعظیم تحریک اپنا ماخذ عوام کی روح کی گہرائیوں میں تلاش کرتی ہے،  جو کہ تمام تر طاقت اور عظمت کا اصل سرچشمہ ہوتی ہے۔ مجرمانہ استعمار کا تاریک گرہن ہماری بہادر قومی جدوجہد کے باعث ختم ہوا جس میں ہمارے بلوچ بھائیوں نے پاکستان کے حصول کے لیے کندھے سے کندھا ملا کر جدوجہد کی۔

پاکستان کی تشکیل کا آغاز جمہوریت پر مبنی ہے جہاں ہر صوبے نے عوامی رائے شماری یعنی ریفرنڈم کے ذریعے پاکستان میں شامل ہونے کا ووٹ دیا۔ یہ آزادی اور رضامندی ہماری قومی ہم آہنگی کی بُنیادہے لیکن ہمارا ماننا ہےکہ اگر ہم نے ایک خوشحال اور ترقی یافتہ قوم کی تعمیر  کرنا ہے تو سیاسی، سماجی اور معاشی اصلاحات ناگزیر ہیں۔

روایات اور قبائلی دائرہ اختیار کے توازن کو برقرار رکھنے کے لئے ہمیں تیز رفتار ترقی پسند اصلاحات حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ سائنس، ٹیکنالوجی، ربط سازی ،اور تعلیم کی ترقی قدرتی طور پر سماجی تبدیلیوں کا باعث بنے گی، جس سے شاید لوگ اب تک آشنا نہ ہوں۔ لہذا ہمیں ترقی کے لیے اپنے لوگوں کی تربیت، اور ان سے مشاورت اختیار کرنی چاہیے کیونکہ ترقی کی جڑیں رضامندی اور انتخاب  کی آزادی میں ہوتی ہیں۔ بھائی چارے اور خاطر داری کی وراثتی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے نئے خیلات متعارف کرانے کا نازک توازن  برقرار رکھنا ہی ترقی کا راستہ ہے جسے پاکستان کے شہری خود تشکیل دیں گے۔

اب یہ پڑھیں

balochistan.JPG

مسٹر جناح کا بلوچستان میں پاکستان میں شمولیت، تعلیمی ، سماجی ، معاشی اور سیاسی ترقی کے وعدے پر مبنی تھا۔ 

اس موضوع پر مزید مضامین

bottom of page