top of page
Constructive Spirit

تعمیری رُوح

جناح کے نظریات

اب ہم سب سے جس چیز کا تقاضا ہے وہ تعمیری جذبہ ہے نہ کہ وہ عسکری جذبہ جو ہماری جدوجہد آزادی کے دنوں میں موجود تھا۔ تعمیر کرنا، آزادی کے حصول کے لیے جنگجو جذبہ رکھنے سے کہیں زیادہ مشکل کام ہے۔ جیل جانا یا آزادی کیلئے لڑنا، حکومت چلانے کی نسبت آسان ہے۔

-مسٹر جناح / قائداعظم

- تقریر: قومی تعمیرِ نو میں طلباء کا کردار

- سیاق و سباق: ڈھاکہ یونیورسٹی کے کانووکیشن میں تقریر۔

Jinnah

گہرے تاثُّرات

بعد از نوآبادیاتی دور میں ترقی کے لیے، نوآبادیاتی رسوم و رواج سے نکلنے کی ضرورت ہے۔ آزادی حاصل کر لی گئی ہے، اور گزشتہ برسوں کے عسکری جذبے نے خود کو قوم کی تعمیر، محنت اور ترقی کیلئے جدوجہد جیسی تعمیری کوششوں میں ڈھال لیا ہے۔

بعد از نوآبادیاتی دور کے عوام کے نفوس ایک عظیم خستگی کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے اور صدیوں کی نوآبادیاتی بد نظمی کی غلاظت میں لتھڑے ہوئے تھے۔ آزادی ایک مشکل جدوجہد کے بعد جیتی گئی تھی اور عوام تعلیمی سعی یا حقیقی خود مختاری کیلئے فکری مشقت جیسی کوششوں میں عجلت کے خواہاں نہیں تھے۔ آزادی کے فوراً بعد بٹوارے کی ہولناکیوں کا سامنا ہوا اور ہماری تاریخ کا بیشتر حصہ آمروں اور طفیلی اقربا پرور خاندانوں کے تسلسل سے متاثر ہوا جنہوں نے ملک کو تاریک دور میں دھکیل دیا اور عوام کو یہ سب سہنا پڑا۔

قوم کی تعمیر کے لیے اپنے لوگوں کے ذہنی رویوں کو بدلنے اور قوم کی اعلیٰ ترین امنگوں، امیدوں، جذبات اور خواہشات کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ عالمی سطح کی ترقی پسند مسلم جمہوریت کی تعمیر کے لیے عوام میں ایک بڑے پیمانے پر قومی جذبہ ابھارنے اور ترقی کیلئے جستجو کی ضرورت ہے۔

تعمیری جذبہ اس چیز کا بھی متقاضی ہے کہ دنیا کے بہترین لوگوں سے سیکھنے کے لیے مضبوط بین الاقوامی اشتراک قائم کیا جائے۔ ترقی کی رفتار کو تیز کرنے کے لیے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے ساتھ نظریات کی افزائش اور عوام سے عوام کے رابطے کی بھی ضرورت ہے۔ ترقی یافتہ ممالک سے مسائل کے حل نقل کر لینا کارآمد نہیں ہے، مگر ترقی یافتہ ممالک سے ٹیکنالوجی کی درآمد یقینی طور پر کلیدی حیثیت رکھتی ہے – قانون سازی، قواعد، ٹیکس اور ٹیکنالوجی کے اطلاق کو ثقافتی اور سماجی تناظر میں اس طرح سے ڈھالنا ہو گا کہ یہ ٹیکنالوجی کو ہی یکسر تبدیل کر دے۔

 

موثر انداز میں چلائی گئی حکومت قوم کی بدلتی ضروریات اور ترجیحات پر فوری رد عمل دیتی ہے۔ حکومتی مشینری کو اس کے تمام جمہوری اصولوں کے ساتھ احتیاط سے چلانا اور اُن عوام کی خوشحالی کے لیے درکار تیز رفتار ترقی کے دور کا آغاز کرنا جو اس کے مستحق ہیں، اس جنگی جذبے سے کہیں ذیادہ مشکل ہے جو جدوجہد آزادی کے لیے درکار ہے۔ فاتح ذہنیت اس بات کی متقاضی ہے کہ ہم ترقی کیلئے منصوبہ بندی، تعمیر، اور عمل کریں اور اس کیلئے مسلسل جدوجہد کرتے رہیں۔

تعمیری جذبے کا انحصار ایمان پر بھی ہے۔ ایمان تب بھی ثابت قدم رکھتا ہے جب مستقبل قریب میں جیتنے کا تصور کرنا بھی ممکن نہ ہو، ایمان بہت عارفانہ شے ہے*۔ طویل مدتی تبدیلی لانے کے لیے ایمان کی قوت درکار ہے، وہ بدلنے کیلئے جس کا مشاہدہ شاید ایک نسل اپنی زندگی میں نہ کر سکے اور نہ ہی اس سے مستفید ہو سکے۔ بعض اوقات ہمارا خطہ عمل کا دائرہ کار غیر مادی، علامتی، سیاسی مباحثے اور اجتماعی تخیل پر مبنی ہوتا ہے۔

***

پاکستان کے شہری، پاکستان کے لیے ایک شاندار مستقبل کا تصور کرتے ہیں، اور اس تصور کے، حقیقیت میں بدلنے پر خلوص دل سے یقین

رکھتے ہیں، ہم خود کو اپنی بلند امنگوں اور اپنے عزائم کو سچ کر دکھانے کیلئے اپنی جرات مندانہ کوششوں سے جانچیں گے۔

 

مآخذ: اندھیرے میں امید - ربیکا سولنیٹ٭

اب یہ پڑھیں

Youth are the nation-builders

چونسٹھ 64 فیصد٪ قوم تِیس سال سے کم عُمر ہے۔ مسٹر جناح بتاتے ہیں کہ کِس طرح نوجوانوں کو خُود کو نظم و ضبط، تعلیم اور تربیت سے آراستہ کرنا چاہئیے۔ 

یکساں مضامین جو شاید آپ کو پسند آئیں

Steve Jobs
Edhi
Role of students
bottom of page